13 ستمبر 2013 - 19:30

حزب الوعد کے نائب سربراہ نے بحرین کی پانچ مخالف جماعتوں کی طرف سے خلیفی حکومت کو پیش کردہ 10 اصولوں کے نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں کا نفاذ حقیق جمہوریت کی طرف حقیقی قدم ہوگا۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رضی الموسی نے کہا: خلیفی حکومت کو سیکورٹی اقدامات سے اجتناب کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت مخالف جماعتوں کے ساتھ مذاکرت کی نشستوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر انہیں عوام کو کچلنے، ان پر حملے کرنے اور زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ انھوں نے کہا: یہ ممکن نہیں ہے کہ مذاکرات جاری ہوں اور اسی وقت سیاسی مخالفین کو کچلنے اور عوام کی اکثریت کی سرکوبی بھی جاری رہے؛ چنانچہ مذاکرات کے لئے پہلا اور ضروری اقدام یہی ہونا چاہئے کہ حکومت عوام کو کچلنے کے لئے سیکورٹی اقدامات کا سلسلہ بند کرے۔ الموسوی نے کہا کہ مذاکرات کی میز مخالفین جماعتوں کے لئے تزویری اہمیت رکھتی ہے لیکن یہ واحد راستہ نہیں ہے اور اگر ہم محسوس کریں کہ مذاکرات اپنی افادیت کھوچکے ہیں تو ان میں شرکت کرنا چھوڑ دیں گے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت در پردہ کوشش کررہی ہے کہ مخالف جماعتوں کو مذاکرات کا سلسلہ بند کرنے پر آمادہ کرے تا کہ وہ عوام اور دنیا کو جتا سکے کہ مخالفین مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں تاہم 47 ممالک کے بیان میں آل خلیفہ حکومت کی مذمت کے بعد اب دنیا جان چکی ہے کہ کونسا فریق وقت کشی کررہا ہے اور وہ کون ہے جو اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کررہا ہے۔ مخالف جماعتوں کی طرف سے جن دس اصولوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ کچھ یوں ہیں: 1۔ ملت کی حاکمیت؛ 2۔ حاکم قوت کی جوابدہی؛ 3۔ سماجی و سیاسی قرارداد (Contract) کو حکومت تسلیم کرے؛ 4۔ حکومت خاص طور پر معاشرے کے غریب طبقے کے حوالے سے، سماجی ذمہ داریاں قبول کرے؛ 5۔ قانون پر استوار جمہوری نظام کو تسلیم اور نافذ کرے؛ 6۔ سیاسی و معاشرتی فیصلہ سازی میں عوام کی ـ مرضی اور ارادے کے مطابق ـ شراکت داری؛ 7۔ سیاسی کثرتیت کو تسلیم کیا جائے؛ 9۔ شفاف اور صحتمند انتخابات کا انعقاد؛ اور 10۔ عقل و منطق کی حاکمیت، عادل اور قابل اعتماد عدلیہ کا قیام اور عدلیہ کی مکمل خودمختاری کو تسلیم اور نافذ کیا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭